اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ بینکوں نے صارفین کو لوٹنے کا نیا طریقہ اختیار کر رکھا ہے اور 2 روپے کے میسج کے 12 روپے وصول کئے جارہے ہیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس سروس کی مد میں صارفین سے بھاری رقوم وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔چیئرمین پی ٹی اے اور اسٹیٹ بینک حکام نے کمیٹی کو بینکنگ ٹرانزیکشنز کے مہنگے چارجز کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ بینکوں نے صارفین کو لوٹنے کا نیا طریقہ اختیار کر رکھا ہے ، ٹیلی کام کمپنیاں ایگریگیٹرز کو ایک ایس ایم ایس صرف 1 سے 2 روپے میں فروخت کرتی ہیں، لیکن بینک وہی میسج صارف کو 12 روپے میں چارج کر رہے ہیں۔صارفین سے صرف 14 سے 15 میسجز کے عوض ماہانہ 180 سے 325 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق پی آئی ایس پی اور زرعی ترقیاتی بینک کی ایس ایم ایس سروس دیگر بینکوں کے مقابلے میں انتہائی سستی ہے۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے مالی حجم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا بینک سالانہ 25 ارب 60 کروڑ روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتے ہیں، جو میسج بھیجنے کا نظام سنبھالتی ہیں، اس کے بدلے بینکوں کو صارفین سے سالانہ 18 ارب 70 کروڑ روپے کی وصولی ہوتی ہے۔پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے نمائندے نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ بینکوں نے ایگریگیٹرز اس لیے رکھے ہیں کیونکہ خود یہ نظام چلانے پر اخراجات اس سے بھی زیادہ ہوں گے۔سینیٹر عبدالقادر نے سخت سوال اٹھایا کہ جب سروس اتنی سستی ہے تو بینک صارفین سے اتنے زیادہ پیسے کیوں وصول کر رہے ہیں؟سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ ٹیلی کام کمپنیوں نے براہِ راست کمیٹی کو مکمل معلومات فراہم نہیں کیں، جبکہ ٹیلی کام حکام کا کہنا تھا کہ وہ ڈیٹا پی ٹی اے کو دے چکے ہیں۔اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ چونکہ صارف کو اپنے بینک اکانٹ سے رقم نکلنے کی فوری اطلاع چاہیے ہوتی ہے، اس لیے بینک اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرانزیکشنل میسجز پر زیادہ چارج کرتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






