سرکاری ملازمین کی ترقیوں کے متعلق بڑا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین، خصوصاً اساتذہ اور ڈائریکٹرز فزیکل ایجوکیشن کی ٹائم سکیل پروموشن کی واپسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اہم تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

جسٹس راحیل کامران نے محمد سلطان شاہد سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ سنایا، جسے عدالتی نظیر بھی قرار دیا گیا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے

میں 30 جون 2025 کو سیکرٹری خزانہ کی جانب سے جاری کردہ حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ٹائم سکیل پروموشن واپس لینے کا اقدام قانون کے منافی تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ تمام پٹیشنرز کی اپ گریڈیشن فوری طور پر بحال کی جائے اور انہیں تمام واجب الادا مالی فوائد بھی ادا کیے جائیں۔

فیصلے میں عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ وہ افسران جو مسلسل 10 سال تک ایک ہی سکیل میں کام کرتے رہتے ہیں، انہیں “اسٹیگنیشن” کا شکار تصور کیا جائے گا۔ عدالت کے مطابق ٹائم سکیل اپ گریڈیشن کا بنیادی مقصد ایسے ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا ہے جن کے لیے ترقی کے مواقع محدود یا دستیاب نہیں ہوتے۔ لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ پروموشن اور اپ گریڈیشن دو الگ الگ قانونی تصورات ہیں، لہٰذا حکومت کا یہ مؤقف کہ وہ ٹائم سکیل اپ گریڈیشن واپس لے سکتی ہے، قابل قبول نہیں۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے دائرہ اختیار پر اٹھائے گئے اعتراض کو بھی مسترد کر دیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی ہدایت کی کہ پٹیشنرز سے کسی قسم کی ریکوری نہ کی جائے اور اگر اس حوالے سے کوئی تادیبی کارروائی شروع کی گئی ہو تو اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے دور رس اثرات دیگر محکموں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close