تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں میں کمی کا امکان

لاہور: تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیاں کم کرنے کی تجویز سامنے آگئی جبکہ اسکولوں کو متبادل ہفتے کے روز کھلا رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے انکشاف کیا ہے کہ صوبائی حکومت اس سال گرمیوں کی تعطیلات میں 15 سے 20 دن کی کمی پر غور کر رہی ہے، اس اقدام کا مقصد تعلیمی خلا کو پر کرنا اور نصاب کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔وزیرِ تعلیم کا کہنا تھا کہ موجودہ تعلیمی سال میں تدریسی ایام کی تعداد 180 سے بڑھا کر 190 دن کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ چھٹیوں کی زیادتی کی وجہ سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، جسے بچانے کے لیے مختلف تبدیلیاں زیرِ غور ہیں ، جس میں موسمِ گرما کی چھٹیوں میں 15 سے 20 دن اور موسمِ سرما کی چھٹیوں میں 5 سے 6 دن کی کمی شامل ہیں۔اس کے علاوہ تعلیمی سیشن کو مثر بنانے کے لیے اسکولوں کو متبادل ہفتے کے روز کھلا رکھنے کی تجویز ہے۔ایک اہم پیش رفت میں حکومت نے میٹرک اور او/اے لیول کے طلبہ کے لیے علیحدہ تعلیمی کیلنڈر ترتیب دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد پاکستانی طلبہ کے مطالعے کے شیڈول کو بین الاقوامی امتحانات کے ٹائم لائن کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہے۔یہ فیصلے مارچ 2026 میں مشرقِ وسطی کی کشیدگی اور توانائی کے بحران کے باعث اسکولوں کی طویل بندش کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ان ہنگامی حالات کی وجہ سے ہونے والے تعلیمی نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے تدریسی عمل کی رفتار کو تیز کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔صوبائی وزیر نے امید ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ طلبہ عالمی سطح پر مقابلے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close