اسرو کے 100 سے زائد سائنس دانوں کے استعفے، بھارتی حکومت نے قواعد سخت کر دیے
بھارت کی خلائی ایجنسی اسرو (ISRO) کے 100 سے زائد تجربہ کار سائنس دانوں کے اچانک استعفوں نے ادارے اور حکومت کے لیے تشویش کی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے بعد حکومت نے استعفوں کی منظوری سے متعلق قواعد مزید سخت کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سائنس دانوں کی بڑی تعداد کے استعفوں کی اہم وجوہات میں نجی شعبے کی جانب سے پرکشش تنخواہیں، بہتر مراعات اور جدید کام کا ماحول شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق کے شعبے میں متعدد نجی کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس سامنے آئے ہیں، جو اسرو کے تجربہ کار ماہرین کو سرکاری ملازمت کے مقابلے میں زیادہ پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
دوسری جانب گگنیان اور چندریان جیسے اہم قومی خلائی منصوبوں پر مسلسل دباؤ اور طویل اوقاتِ کار بھی کئی سائنس دانوں کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین نے ذاتی زندگی کو زیادہ وقت دینے اور ذہنی سکون کے لیے قبل از وقت ریٹائرمنٹ یا استعفیٰ دینے کو ترجیح دی۔
اس صورتحال کے پیش نظر بھارتی محکمہ خلائی امور نے استعفوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے قواعد سخت کر دیے ہیں۔ نئے ضوابط کے تحت اب اسرو کے مختلف مراکز کے ڈائریکٹرز کسی سائنس دان کا استعفیٰ براہِ راست منظور نہیں کر سکیں گے، بلکہ ہر درخواست حتمی منظوری کے لیے مرکزی محکمہ خلائی امور کو بھیجی جائے گی تاکہ اہم منصوبوں پر کام متاثر نہ ہو۔
اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے اس معاملے کو غیر معمولی بحران قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ادارے میں ملازمین کا آنا جانا ایک معمول کا عمل ہے اور اسرو اس صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے اقدامات کا مقصد ملازمین کو زبردستی روکنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اہم خلائی منصوبوں میں اچانک خلل پیدا نہ ہو۔ ان کے مطابق اگر کوئی ماہر ادارہ چھوڑتا ہے تو اس کی ذمہ داریاں دیگر اہل سائنس دانوں کو منتقل کی جائیں گی تاکہ منصوبوں کا تسلسل برقرار رہے۔
اگرچہ اسرو میں اس وقت 14 ہزار 600 سے زائد ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں اور 100 سے زائد استعفے مجموعی افرادی قوت کے لحاظ سے بڑی تعداد نہیں، تاہم اصل تشویش ان سائنس دانوں کے وسیع تجربے کے ضائع ہونے پر ہے، جو انہوں نے برسوں تک پیچیدہ خلائی مشنز پر کام کرتے ہوئے حاصل کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے ملازمین کی بھرتی تو ممکن ہے، لیکن ایسے تجربہ کار سائنس دانوں کا متبادل تیار کرنا آسان نہیں۔
اسرو کے مطابق ادارے میں اس وقت ایک ہزار سے زائد نئی سائنسی اور تکنیکی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم بھارت کے مستقبل کے خلائی پروگراموں کے لیے تجربہ کار افرادی قوت کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






