ملک گیر ہڑتال کی وارننگ

لاہور کے علاقے اڈا پلاٹ میں ایل پی جی صنعت سے وابستہ افراد کی ملک گیر کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ایک ہزار سے زائد اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ایل پی جی شعبے کو درپیش مسائل، قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور ریگولیٹری معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ اوگرا ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین سے قبل صنعت کے نمائندوں سے مشاورت کرے، جبکہ بلوچستان میں ایل پی جی کی ترسیل کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔ انہوں نے اوگرا، پیرا اور سول ڈیفنس کی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جائز کاروبار کو متاثر کرنے کے بجائے شفاف اور مؤثر ریگولیٹری نظام قائم کیا جائے۔

کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے آل پاکستان ایل پی جی انڈسٹری آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین حاجی نعمان احمد نے الزام عائد کیا کہ اوگرا صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افسران اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے خود ساختہ نرخ جاری کرتے ہیں، جس کے باعث دیگر اداروں کی کارروائیاں بھی صنعت کو متاثر کرتی ہیں۔

انہوں نے درآمدی ایل پی جی کے حوالے سے اوگرا کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے تاجروں کو اب تک ڈھائی ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث گاڑیوں اور باؤزرز کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے، جبکہ ناقص سلنڈرز بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، جن کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔

کانفرنس میں صنعتی روابط کو بہتر بنانے کے لیے انڈسٹری کوآرڈینیشن کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو ایل پی جی صنعت غیر معینہ مدت تک کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close