ماسکو: روس نے پاکستان سے آلو کی درآمد پر عائد پابندی جزوی طور پر ختم کرتے ہوئے 101 پاکستانی برآمد کنندگان کو دوبارہ روسی منڈی میں آلو برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
روسی وفاقی ادارہ برائے ویٹرنری و فائٹو سینیٹری نگرانی کے مطابق یہ فیصلہ پاکستانی حکام کی جانب سے فراہم کردہ فائٹو سینیٹری اقدامات، قرنطینہ نظام اور برآمدی کنٹرول سے متعلق تفصیلی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ نئی اجازت 7 جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔
روسی حکام نے بتایا کہ پاکستان کے پیداواری اور معائنہ جاتی نظام کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے پابندی میں نرمی کی گئی، تاہم دو پاکستانی برآمد کنندگان پر قرنطینہ قواعد کی خلاف ورزیوں کے باعث پابندی بدستور برقرار رہے گی۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ روس میں درآمد ہونے والی تمام زرعی مصنوعات کا معائنہ آئندہ بھی روسی قرنطینہ اور فائٹو سینیٹری قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ روس نے 2025 میں پاکستانی آلو کی بعض کھیپوں میں قرنطینہ خدشات سامنے آنے پر درآمدات معطل کر دی تھیں، جبکہ نئے فیصلے کو پاکستان اور روس کے درمیان زرعی تجارت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






