اوپن مارکیٹ میں منافع خور مافیا کی من مانی برقرار ہے، جس کے باعث سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے 50 سے 100 روپے تک زیادہ وصول کی جا رہی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نرخ نامے جاری کیے جانے کے باوجود بیشتر مارکیٹوں میں ان پر عملدرآمد نہ ہونے سے شہری مہنگی اشیائے خورونوش خریدنے پر مجبور ہیں۔مارکیٹ سروے کے مطابق پیاز کا سرکاری نرخ 107 روپے فی کلو ہے، مگر مارکیٹ میں 180 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔ ٹماٹر سرکاری طور پر 205 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن صارفین سے 250 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح لہسن 350 روپے کے بجائے 420 روپے اور ادرک 335 روپے کی بجائے 480 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔دیگر سبزیوں میں شملہ مرچ 210 روپے کے بجائے 260 روپے، شلجم 50 روپے کے مقابلے میں 70 سے 80 روپے، مٹر 210 روپے کے بجائے 400 روپے، بھنڈی 100 روپے کے بجائے 140 روپے، فارمی پالک 25 روپے کے بجائے 50 سے 60 روپے، بینگن 70 روپے کے مقابلے میں 80 سے 160 روپے، دیسی ٹینڈے 110 روپے کے بجائے 160 روپے اور میتھی 160 روپے کے مقابلے میں 180 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔
پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔ لیموں 160 روپے کے بجائے 220 روپے، فالسہ 280 روپے کے مقابلے میں 320 روپے، سفید خوبانی 350 روپے کے بجائے 380 روپے، کیلے 215 روپے فی درجن کے بجائے 250 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔
اسی طرح آم کی مختلف اقسام بھی سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمت پر دستیاب ہیں۔ چونسہ آم 260 روپے کے بجائے 280 سے 310 روپے، لنگڑا آم 120 روپے کے مقابلے میں 180 روپے، دسہری آم 220 روپے کے بجائے 250 سے 280 روپے جبکہ دیسی آم 110 روپے کے بجائے 150 سے 180 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔شہریوں نے شکایت کی ہے کہ پرائس کنٹرول کے دعوؤں کے باوجود اوورچارجنگ کا سلسلہ نہ رک سکا، جس سے روزمرہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹوں میں مؤثر چیکنگ کی جائے، سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور منافع خور عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






