اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کو بتایا گیا ہے کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی مجموعی لاگت ایک ہزار 737 ارب روپے ہے، جبکہ اس منصوبے سے مجموعی طور پر 5,400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں واپڈا حکام نے منصوبے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی سی ون کے مطابق داسو منصوبے کی تکمیل نومبر 2028 میں متوقع ہے، تاہم دو ناخوشگوار واقعات کے باعث منصوبے میں تاخیر ہوئی۔
حکام کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں 12 یونٹس نصب کیے جائیں گے جن سے 4,320 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، جبکہ بعد ازاں مزید تین یونٹس شامل کیے جائیں گے۔ ہر یونٹ کی پیداواری صلاحیت 360 میگاواٹ ہوگی۔
اجلاس کے دوران 765 کے وی ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر کام کرنے والے ٹھیکیدار کو کروڑوں ڈالر سود کی ادائیگی پر کمیٹی ارکان نے تشویش کا اظہار کیا۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ منصوبے کے لیے 485 ملین ڈالر قرض حاصل کیا گیا، لیکن ابھی صرف 30 فیصد کام مکمل ہونے کے باوجود 46 ملین ڈالر سود کی مد میں ادا کیے جا چکے ہیں، جو مجموعی قرض کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔
واپڈا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے کے لیے بیرونی فنڈنگ سمیت تمام مالی وسائل دستیاب ہیں اور 765 کے وی ٹرانسمیشن لائن پر کام جاری ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ انڈر گراؤنڈ پاور ہاؤس ٹنل پر 20.04 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پراجیکٹ کالونی فیز ون پر 79.27 فیصد اور فیز ٹو پر 4.45 فیصد پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






