اسلام آباد: مئی 2026 کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.7 فیصد تک پہنچ گئی، جو جون 2024 کے بعد افراطِ زر کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد تھی، تاہم مئی میں اس میں مزید 0.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ملک میں افراطِ زر کا دباؤ دوبارہ بڑھنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔
کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعداد و شمار کے مطابق ٹرانسپورٹ کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں سالانہ بنیادوں پر قیمتوں میں 36.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رہائشی اخراجات میں 16.8 فیصد جبکہ متفرق اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ خوراک کی قیمتیں بھی سالانہ بنیادوں پر 7.9 فیصد بڑھ گئیں، جس سے عام صارفین کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوا۔
تعلیم کے شعبے میں اخراجات 8.4 فیصد جبکہ صحت سے متعلق اخراجات 7.5 فیصد بڑھ گئے۔ اسی طرح کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر 8.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہانہ بنیادوں پر بھی مہنگائی میں اضافہ دیکھا گیا اور مئی 2026 میں افراطِ زر کی شرح میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ماہانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ 5.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے مجموعی مہنگائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق ایندھن، ٹرانسپورٹ اور خدمات کے شعبوں میں قیمتوں کے اضافے نے مجموعی افراطِ زر کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے اثرات عام صارفین اور گھریلو بجٹ پر مرتب ہو رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






