گندم اسمگلنگ اسکینڈل بے نقاب

رحیم یارخان:  بین الصوبائی چیک پوسٹوں اور موٹروے انٹرچینجز کے ذریعے گندم اورگندم سی بنی اشیا کی مبینہ سمگلنگ میں ملوث فوڈگرین انسپکٹر اوراسسٹنٹ فوڈکنٹرولر کونوکری سے برطرف کردیاگیا،دونوں کو مبینہ الزامات پرمحکمہ کی جانب سے شوکازنوٹس جاری کیئے گئے دونوں افسران الزامات کے خلاف موثراورتسلی بخش جوابات دینے میں ناکام رہے ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ خوراک امان اللہ سومرونے محکمہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری آرڈر میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر جام محمد اجمل اور فوڈ گرین انسپکٹر خالد محمود کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔جن کے مطابق مذکورہ افسران پر الزام ہے کہ وہ بین الصوبائی چیک پوسٹوں اور موٹروے انٹرچینجز کے ذریعے گندم اور گندم سے بنی اشیا کی مبینہ سمگلنگ میں ملوث رہے ہیں۔ دستاویز میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مقامی فلور ملز اور گندم کاروبار سے وابستہ افراد کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کے ذریعے غیر قانونی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی گئی اور ہر ٹرک کے بدلے 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک مبینہ رشوت لینے کے الزامات بھی شامل ہیں جس پر محکمہ کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، اور افسران کوجوابدہی کیلئے طلب کیا گیا اور ان کا موقف سننے کے بعد ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران الزامات کے خلاف موثر اور تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے جبکہ تحقیقات میں گندم کی غیر قانونی ترسیل اور کرپشن کے الزامات درست قرار پائے گئے۔ جس پردونوں افسران کونوکری سے برطرف کردیاگیا۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گندم اسمگلنگ اور کرپشن میں ملوث تمام عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات اور سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب ہو سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close