پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے پس منظر میں اصل وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر لاگت کم ہونے کے باوجود عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا۔ سرکاری پالیسی میں تبدیلیوں نے قیمتوں کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بنیادی طور پر ٹیکسز اور ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن (IFE) مارجن بڑھانے کے باعث کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، مگر اس کے باوجود صارفین کے لیے نرخ بڑھا دیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق 18 اپریل کے بعد ایک ہفتے کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت میں 3 روپے 44 پیسے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 14 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی۔ اس کے برعکس حکومت نے دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پیٹرول پر لیوی ٹیکس اور ڈیزل پر آئی ایف ای مارجن میں اضافہ نہ کیا جاتا تو قیمتوں میں اضافے کی ضرورت پیش نہ آتی اور ممکنہ طور پر عوام کو ریلیف مل سکتا تھا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






