ہیوسٹن (ٹیکساس)
امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں کشمیر گلوبل کونسل (KGC) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک اہم اور نمائندہ کشمیر کانفرنس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے بھرپور سفارتی و عوامی مہم چلائی جائے گی۔
24 مئی 2026 کو منعقدہ اس کانفرنس میں پاکستانی، کشمیری اور بنگلہ دیشی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سیاسی، سماجی، مذہبی اور علمی حلقوں کی ممتاز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
کشمیر گلوبل کونسل کے صدر فاروق صدیقی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے سب سے اہم اور دیرینہ تنازع ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اور کشمیری تارکینِ وطن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر کشمیری عوام کی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کو صرف حقِ خودارادیت کی حمایت پر دھمکیوں، گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطگی اور سفری پابندیوں کا سامنا ہے، تاہم ان تمام تر مظالم کے باوجود کشمیری عوام کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔
فاروق صدیقی نے کہا:
“کشمیری عوام کی آواز کو جبر، دھمکی یا قید کے ذریعے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ انصاف، آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد ایک عالمی انسانی مسئلہ ہے جسے ہر بین الاقوامی فورم پر زندہ رکھنا ہوگا۔”
کانفرنس سے اسلامی سوسائٹی آف گریٹر ہیوسٹن کے صدر عمران غازی، جنرل سیکریٹری محمد علی سمیت متعدد سماجی و سیاسی رہنماؤں، دانشوروں، صحافیوں اور کمیونٹی شخصیات نے خطاب کیا۔ مقررین میں فہیم اخون، پی جے سواتی، عامر سبزواری، غضنفر ہاشمی، نصرت حارث، شاہد ہاشمی، ماہ جبین زیدی اور عارف عظیم شامل تھے۔
کشمیر گلوبل کونسل کے بورڈ آف گورنرز کی نمائندگی الطاف قادری، راجہ مظفر اور زین مظفر نے کی۔
مقررین نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہیں نکالا جاتا۔ انہوں نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور عالمی امن کا مسئلہ ہے۔
کانفرنس کے دوران امریکہ بھر میں ایک منظم اور مربوط آگاہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس کے تحت جامعات، میڈیا، سول سوسائٹی، پالیسی ساز اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں پہنچایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا جو مستقبل میں مختلف شہروں میں سیمینارز، کانفرنسز، میڈیا مہمات اور پالیسی پروگرامز کا انعقاد کرے گی۔
کانفرنس میں منظور کی گئی قراردادوں میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے، سیاسی قیدیوں کی رہائی، جبری گمشدگیوں اور اجتماعی قبروں کی تحقیقات، اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ اور سخت قوانین کے خاتمے کے مطالبات شامل تھے۔
شرکاء نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ 13 جولائی یومِ شہدائے کشمیر ہر سال دنیا بھر میں بھرپور انداز میں منایا جائے گا تاکہ کشمیری شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے اور نئی نسل کو آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد سے روشناس کرایا جا سکے۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی اور مسئلہ کشمیر کو عالمی ضمیر کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے کوششیں مزید تیز کی جائیں گی ۔۔۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






