آزاد کشمیر کابینہ کا اجلاس، اوورسیز کشمیریوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ،بیواؤں اور یتیموں کی مالی معاونت کیلئے ترمیمی ایکٹ کی منظوری، شادی بیاہ، سماجی تقریبات میں ون ڈش سسٹم رائج کرنے کا فیصلہ

مظفرآباد(پی آئی ڈی)23نومبر2021وزیراعظم سردارعبد القیوم نیازی کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر کابینہ کا اجلاس منگل کے روز وزیراعظم سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔کابینہ اجلاس میں اوورسیز کشمیریوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ، جلد قانون سازی پر اتفاق۔ کابینہ نے بیواؤں اور یتیموں کی مالی معاونت کیلئے ترمیمی ایکٹ کی منظوری دیدی جس کے تحت یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کیلئے خصوصی فنڈقائم کیا جائیگا جو یتیموں اور بیواؤں کی فلاح وبہبود پر خرچ ہو گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ احساس پروگرام کے تحت مستحقین کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کیلئے وفاقی طرز پر بنائے گئے طریقہ کار کو ہی فالو کیا جائیگا۔ اجلاس میں ریاست میں شادی بیاہ و دیگر سماجی تقریبات میں ون ڈش سسٹم کو رائج کرنے اور تقریبات کے اوقات رات 10بجے تک مقر ر کرنے اور ریاست میں نیٹ میٹرنگ سسٹم کے نفاذکا فیصلہ کیاگیا۔ کابینہ کو احتساب ایکٹ میں ترمیم کے حوالہ سے قائم کمیٹی نے اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیاجس پر کمیٹی کو آئندہ اجلا س میں سفارشات کو حتمی شکل دیکر پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں کابینہ کو عدالت میں زیر التواء کیسز کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جس پر کابینہ نے عدالت میں زیر التواء کیسز کی موثر پیروی کیلئے کمیٹی قائم کر دی۔کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان بلاتخصیص عوام کی فلاح وبہبود دیکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا ویژن عام آدمی کو خوشحال دیکھنا ہے۔ وزیراعظم پاکستان اخلاص سے بھرپور شخصیت ہیں ان کے ویژن اور سوچ کو عملی جامہ پہنا کر ہی آزادخطہ کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنایا جا سکتا ہے۔ ماضی کی روایات سے ہٹ کر خدمت خلق کے جذبے سے ہی گڈ گورننس کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ سیاسی وابستگیوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر میں بلاتفریق احتساب حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ احتساب کے نام پر کسی کی تذلیل یا انتقام نہیں ہوگا بلکہ احتساب کے عمل کو واضح اور قابل عمل بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ بیواؤں اور یتیموں کی کفالت حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت لاوارث افراد کی بھی کفالت کریگی۔

لاوارث افراد کی کفالت سے جرائم اور معاشرتی برائیوں میں کمی آئے گی۔اس سلسلہ میں ریاست بھر کے مستحق افراد کا ڈیٹا صاف و شفاف انداز میں اکٹھا کیا جائے تاکہ کوئی بھی مستحق اس سے محروم نہ رہ جائے۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ سیکرٹریز حکومت کو عوام کی مشکلات کے ازالے کیلئے عوام میں جا کر ان کے مسائل معلوم کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ لوگوں کے مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل ہو۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ دسمبر میں وزراء حکومت تمام ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹرز میں کھلی کچہریاں لگا کر عوام کے مسائل سنیں اور ان کے حل کیلئے اقدامات اٹھائیں اورمسائل کے حل میں جہاں کہیں کوئی دشواری ہے تومجھے بتایا جائے۔ عوام کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔ وزراء کرام اپنے محکمہ جات کے عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کا جائزہ لیں اور ان کی موثر پیروی کی جائے۔

وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر نے انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے جرائم چھپانے کی خاطر انسانی حقوق کے ان علمبرداروں کو بھی براداشت نہیں رہا جنہیں دنیا ان کی خدمات کی بدولت عزت اور احترام کی ہی نگاہ سے نہیں دیکھتی بلکہ عالمی ایوارڈ سے بھی نوازے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کو خرم پرویز کی رہائی کو یقینی بنانا چاہیے۔ انسانی حقوق کونسل جنیوا کو خاص طور پر خرم کی رہائی کے لیے قائدانہ کرادار ادا کرنا چاہیے۔کابینہ اجلاس میں تحریک آزادی کشمیر کے شہداء، شہدائے افواج پاکستان اور شہدائے نیلم کے بلندی درجات کیلئے دعا کی گئی۔۔۔۔