صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایران تجاویز مسترد کر دیں

واشنگٹن: ایران کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے نئی تجاویز کی خبر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دنیا کو بتائی، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئیں کہ ایران کی یہ شرائط امریکہ کو منظور نہیں ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تین شرائط کو مان کر سات دن میں آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اپنے مشیروں کو بتایا کہ نومبر میں مڈ ٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بمباری دوبارہ شروع کریں گے، کیونکہ انہیں یقین نہیں کہ تہران ان کے مطالبات مانے گا۔

عباس عراقچی نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ایران نے تین شرائط پر مبنی تجویز قطر کے ذریعے امریکہ کو بھیجی ہے۔ ایران کی تین شرائط کے ساتھ آنے والی اس تجویز کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل کی خریداری پر عائد سخت پابندیاں نرم کرنے اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی جنگ کو بھی بند کروانے سے مشروط ہے۔

عراقچی نے بتایا کہ امریکہ نے تینوں شرطوں پر عمل کر لیا تو اس کے ساتھ ہی ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔ عراقچی نے کہا تھا کہ امریکہ نے اس تجویز کو منظور کر لیا تو تین شرطوں پر عمل کرنے میں تین چار دن لگیں گے اور چھٹے دن تک ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔

وال اسٹریٹ جرنل کی سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ ایران کی اس نئی تجویز کو ڈسکس کیا اور مسترد کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران کی شرائط کو ماننے کو مناسب نہیں سمجھتے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ نومبر میں ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ناکہ بندی ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے آج اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایران ہفتے کے روز امریکی حکومت کے باضابطہ جواب کا منتظر تھا، جب وال اسٹریٹ جرنل نے یہ رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں شامل تین شرطوں پر عمل کرنے کی صورت میں ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی تھی۔

اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں نیا دفاعی نظام تعینات کردیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر اپنے سعودی حریفوں سے بھی رابطہ کیا ہے۔

عباس عراقچی نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ میں صحافیوں کو بتایا کہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روز کی کاؤنٹ ڈاؤن اس روز شروع ہو جائے گی جس روز امریکہ ہماری تجویز کو منظور کر لے گا۔

ایران کی اس تجویز کا مرکزی نکتہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس بحری ناکہ بندی سے ایران کو شدید نقصانات ہو رہے ہیں۔

عراقچی نے کہا کہ اگر امریکی جانب سے معاہدے تک پہنچنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سنجیدگی موجود ہے تو اب سب کچھ تیار ہے۔ عراقچی کے مطابق اگر امریکہ اس پر رضامند ہو جاتا ہے تو جنگ میں شامل فریق باہمی طور پر طے شدہ معاملات پر وسیع تر مذاکرات کا آغاز کر سکتے ہیں۔ ان معاملات میں ممکنہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر بھی بات چیت شامل ہو سکتی ہے۔

ایران کا نیوکلیئر پروگرام دراصل فروری کے آخری روز ایران پر حملے کی بنیاد بنا تھا۔ جب پاکستان کی مدد سے امریکہ ایران جنگ بندی ہوئی تب بھی یہ طے ہوا تھا کہ ابتدائی فوری نوعیت کے کام مکمل کرنے کے بعد دونوں ملک ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات کا آغاز کریں گے، لیکن اس مفاہمت میں آئیڈینٹیفائی کیے گئے ابتدائی اقدامات پر ہی کبھی عملدرآمد نہیں ہو سکا اور نیوکلیئر پروگرام کا تنازعہ جیسا تھا ویسا ہی ہے۔

اب آبنائے ہرمز کی بندش کا ایشو سینٹر اسٹیج پر ہے اور اصل تنازعہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔