ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے صوبہ بھر میں پریشر ہارن کے استعمال کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے۔ آج سے صوبے بھر میں پریشر ہارن کے استعمال پر سخت پابندی عائد کرتے ہوئے تمام سی ٹی اوز اور ڈی ٹی اوز کو بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ٹریفک حکام کے مطابق ہسپتالوں، درسگاہوں، ایمرجنسی سینٹرز اور دیگر حساس مقامات پر ہارن کے غیر ضروری استعمال کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ مسلسل اور بلاوجہ ہارن بجانے والے ڈرائیورز کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام نے کمرشل گاڑیوں کے مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی گاڑیوں سے پریشر ہارن اتار دیں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ٹریفک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پریشر ہارن اور مسلسل ہارن کے استعمال پر 3 لاکھ 83 ہزار سے زائد شہریوں کے چالان کیے جا چکے ہیں، جبکہ لاہور ٹریفک پولیس نے ہارن کے غلط استعمال پر 48 ہزار شہریوں کو چالان ٹکٹ جاری کیے ہیں۔
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ پریشر ہارن اور مسلسل ہارن کا استعمال انسانی سماعت اور اعصابی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، جبکہ ان کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے نتیجے میں شور کی آلودگی میں بھی کمی آئی ہے۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ صوتی آلودگی میں کمی لانے کے لیے ٹریفک قوانین کی پابندی کریں اور غیر ضروری ہارن کے استعمال سے گریز کریں۔ حکام کے مطابق محفوظ، پُرسکون اور ماحول دوست سڑکیں محفوظ ڈرائیونگ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔






