ارجنٹینا میں سمندر کا پانی اچانک کئی کلومیٹر پیچھے ہٹنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں تشویش پھیل گئی۔
ٹک ٹاک، یوٹیوب اور فیس بک پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بحرِ اوقیانوس کا پانی ساحل سے غیرمعمولی حد تک پیچھے ہٹ گیا، جس کے بعد ساحلی زمین کا بڑا حصہ نمایاں ہوگیا اور لوگ وہاں موجود دکھائی دیے، جبکہ دور سمندر میں بڑے بحری جہاز بھی نظر آئے۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے کی بنیادی وجہ شدید سمندری مدوجزر، موسمیاتی دباؤ اور تیز ہواؤں کا امتزاج تھا۔ تیز ہواؤں نے ساحلی سطح کے پانی کو عارضی طور پر گہرے سمندر کی جانب دھکیل دیا، جس کے باعث کم مدوجزر کے دوران پانی معمول سے کہیں زیادہ پیچھے ہٹ گیا اور سمندر کی تہہ نمایاں ہوگئی۔
اس عمل کو ’’ونڈ سیٹ ڈاؤن‘‘ (Wind Setdown) کہا جاتا ہے، جس میں مسلسل سمندری سمت چلنے والی تیز ہوائیں سطحی پانی کو ساحل سے دور دھکیل دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی دباؤ میں تبدیلی بھی سمندر کی سطح کو عارضی طور پر متاثر کرسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سمندر کا اچانک پیچھے ہٹنا بعض اوقات سونامی سے قبل بھی دیکھا جاسکتا ہے، تاہم ہر مرتبہ پانی کا پیچھے ہٹنا سونامی کی علامت نہیں ہوتا۔
ارجنٹینا میں پیش آنے والا یہ واقعہ بھی ایک عارضی قدرتی عمل تھا اور چند گھنٹوں بعد سمندر کا پانی دوبارہ معمول کی سطح پر واپس آگیا۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس واقعے کو عالمی تباہی یا قیامت کی نشانی قرار دیا، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق اس دعوے کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں اور واقعہ قدرتی موسمی و سمندری عوامل کا نتیجہ تھا۔






