میٹا کی نئی اے آئی ایپلی کیشن، کیا کیا اہم اور حیران کن کام کرے گی

میٹا نے ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرا دیا ہے، جو صارف کی اجازت سے مختلف ایپس تک رسائی حاصل کرکے کئی کام خود انجام دے سکتا ہے۔ ان کاموں میں ای میل بھیجنا، سفر بک کرنا، گاڑی فروخت کرنے میں مدد دینا اور ادائیگیاں کرنا شامل ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے ذریعے حساس ذاتی معلومات تک رسائی اور بعض حفاظتی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق میٹا کے اس نئے اے آئی ایجنٹ کا نام ’’میوز‘‘ ہے، جسے کمپنی کے اندرونی طور پر ’’ہیچ‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ منصوبہ چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کے اس تصور کا حصہ ہے جس کے تحت کمپنی اپنے صارفین کو ایسی مصنوعی ذہانت فراہم کرنا چاہتی ہے جو روزمرہ کے مختلف کام خود انجام دے سکے۔

یہ اقدام میٹا کی اس کوشش سے بھی جڑا ہے کہ کمپنی اشتہارات پر انحصار کم کرے اور اے آئی میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری سے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرے۔ کمپنی رواں سال اے آئی چپس اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر 130 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہونے کی پیش گوئی کر چکی ہے۔

صارفین ’’میوز‘‘ کو ایک الگ ایپ کے ذریعے یا واٹس ایپ پر استعمال کر سکیں گے۔ میٹا کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ایجنٹ کو اسمارٹ گلاسز میں بھی شامل کرنے کا ارادہ ہے، تاہم ابتدائی طور پر یہ صرف امریکا میں دستیاب ہوگا۔

کمپنی کے مطابق ’’میوز‘‘ کا بنیادی ورژن مفت ہوگا، جبکہ زیادہ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ماہانہ 20 اور 100 ڈالر کی سبسکرپشن بھی پیش کی جائے گی۔ صارفین یہ فیصلہ بھی کر سکیں گے کہ ’’میوز‘‘ کے ساتھ ہونے والی ان کی گفتگو کو میٹا کے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے یا نہیں۔ کمپنی نے رواں سال کے آخر میں ’’میوز‘‘ کا انکرپٹڈ ورژن متعارف کرانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

’’میوز‘‘ کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ صارف کی اجازت سے ای میل، کیلنڈر، ادائیگیوں، صحت، خریداری اور اسمارٹ ہوم سے متعلق ایپس تک رسائی حاصل کر سکے۔ صارف کسی بھی وقت دی گئی اجازت واپس لے سکتا ہے۔

اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ہر ’’میوز‘‘ ایجنٹ کے لیے الگ ورچوئل مشین استعمال ہوتی ہے، جو کلاؤڈ پر ایک الگ تھلگ کمپیوٹر ماحول کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صارف کسی کام کی ہدایت دینے کے بعد خود ایپ استعمال نہ بھی کر رہا ہو تو ’’میوز‘‘ پس منظر میں وہ کام جاری رکھ سکتا ہے۔

یہ سہولت جہاں اے آئی ایجنٹ کو زیادہ کارآمد بناتی ہے، وہیں اس کے ممکنہ خطرات بھی بڑھا دیتی ہے۔ اگر کسی اے آئی نظام کو صارف کے ای میل، تصاویر، مالی معلومات یا دیگر ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو تو اس کی غلطی کے نتائج عام چیٹ بوٹ کی غلطی سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

میٹا کے نائب صدر برائے اے آئی مصنوعات وشال شاہ کے مطابق کمپنی نے اپریل میں اس ٹیکنالوجی کی لانچ مؤخر کردی تھی تاکہ اس کی سکیورٹی بہتر بنائی جا سکے۔ ان کے مطابق اضافی حفاظتی اقدامات کے بعد کمپنی اس نتیجے پر پہنچی کہ ’’میوز‘‘ کو صارفین تک پہنچانے کے لیے مطلوبہ کم از کم حفاظتی معیار حاصل کر لیا گیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ’’میوز‘‘ میں ایک الگ اے آئی ایجنٹ بھی شامل ہے جو اس کی جانب سے کیے جانے والے مجوزہ اقدامات کی نگرانی کرتا ہے۔ بعض حالات میں یہ نظام کسی کارروائی سے پہلے صارف سے اجازت لینے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ تاہم میٹا نے تسلیم کیا ہے کہ کسی بھی اے آئی نظام سے غلطی کے امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب میٹا کے اندرونی ٹیسٹ میں اس ٹیکنالوجی کی کارکردگی کے ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ کمپنی کے ملازمین نے داخلی پیغامات کے ذریعے ’’میوز‘‘ کے تجربات بیان کیے، جن میں بعض نے اسے روزمرہ کاموں میں مفید قرار دیا جبکہ کچھ نے اس کی کارکردگی اور سکیورٹی سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی۔

ایک تجربے میں اے آئی ایجنٹ نے حفاظتی پابندیوں سے بچنے کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ذاتی آئی کلاؤڈ تصاویر تک رسائی ظاہر کی۔ یہ تصاویر ایک بچے کی سالگرہ کی تقریب سے متعلق تھیں اور اے آئی سے ان میں موجود کھلونوں کی شناخت کرنے کو کہا گیا تھا۔

میٹا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اینڈریو بوس ورتھ نے بھی بتایا کہ انہیں ’’میوز‘‘ استعمال کرتے ہوئے بار بار لاگ آؤٹ ہونے اور دوبارہ لاگ اِن کرنے کی ضرورت پیش آ رہی تھی۔

ایک اور تجربے میں ’’میوز‘‘ کو محدود مدت کے لیے دستیاب ٹکٹوں اور دیگر اشیا کی نگرانی کا کام دیا گیا، تاہم نظام متعدد مسائل کے باعث قابلِ اعتماد انداز میں کام نہیں کر سکا۔ بعض مواقع پر صفحہ ریفریش ہونا بند ہوگیا، کچھ خرابیوں کو نظام نے نظر انداز کیا اور نگرانی کا عمل بھی بظاہر کسی واضح وجہ کے بغیر رک گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مختلف بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اے آئی ایجنٹس کے حوالے سے بھی غیر متوقع رویوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ان واقعات کے بعد یہ سوال مزید اہم ہوگیا ہے کہ ایسے اے آئی نظاموں کو کتنی آزادی دی جانی چاہیے، خصوصاً جب انہیں صارف کے ذاتی ڈیٹا اور مالی معاملات تک رسائی حاصل ہو۔

اگر ’’میوز‘‘ قابلِ اعتماد ثابت ہوتا ہے تو صارفین کے لیے یہ روزمرہ کے کئی کام خود کرانے کا نیا طریقہ بن سکتا ہے۔ تاہم اے آئی ایجنٹ کی جانب سے غلط فیصلوں، حفاظتی پابندیوں کی خلاف ورزی یا حساس معلومات تک غیر مناسب رسائی کی صورت میں اس کے اثرات عام اے آئی چیٹ بوٹ کی غلطی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔