اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے معاون ٹیکنالوجی تک رسائی پر پاکستان کی پیش کردہ پہلی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔
قرارداد کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں وہیل چیئرز، مصنوعی اعضا، سماعت کے آلات، اسکرین ریڈرز جیسی معاون مصنوعات کو سستا اور آسان بنانا ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 2.5 ارب افراد کو ان کی ضرورت ہے لیکن لاگت، دستیابی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی رکاوٹ ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجیز تعلیم، روزگار اور صحت میں براہ راست مدد دیتی ہیں اور “انحصار سے خودمختاری” تک کا پل ہیں۔
قرارداد میں قومی حکمتِ عملی، بہتر اعداد و شمار، تحقیق اور ہنگامی حالات میں معاون ٹیکنالوجی کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔
یہ قرارداد پاکستان کی ایک بصارت سے محروم سفارت کار نے تیار کی۔ پاکستان اس سے قبل 2018 میں WHO میں بھی اسی موضوع پر قرارداد پیش کر چکا ہے۔






