پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سینئر نائب صدر اور حلقہ ایل اے-32 کے نامزد امیدوار صاحبزادہ محمد اشفاق ظفر ایڈووکیٹ نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کو مبینہ طور پر دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے نتائج مسترد کر دیے اور اعلان کیا ہے کہ وہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔
ہٹیاں بالا میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اشفاق ظفر نے الزام عائد کیا کہ تحصیل چکار میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ فاروق حیدر خان کے حامی، ووٹرز اور پولنگ ایجنٹس نے مبینہ طور پر پنجاب پولیس کی مدد سے ٹھپے لگائے اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ حلقے میں مبینہ دھاندلی کے تمام شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور قانونی ماہرین سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد متعلقہ فورمز پر باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
اشفاق ظفر نے دعویٰ کیا کہ عوام نے انہیں ووٹ دیا، تاہم ان کے بقول راجہ فاروق حیدر خان نے “پانچویں مرتبہ” ان کا انتخاب چرایا۔ انہوں نے راجہ فاروق حیدر خان کو “جعلی اور بوگس طریقے سے کامیاب ہونے والا ایم ایل اے” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نتائج کسی صورت قابل قبول نہیں اور وہ انہیں تسلیم نہیں کرتے۔
انہوں نے اپنے گزشتہ 20 برس سے ساتھ دینے والے کارکنوں اور ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے اعتماد اور حمایت پر ہمیشہ ان کے شکر گزار رہیں گے۔
اشفاق ظفر نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کے انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے پیچھے وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز براہ راست ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مبینہ انتخابی دھاندلی میں ملوث عناصر کا “زندگی کی آخری سانس تک پیچھا کریں گے” اور انصاف کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔






