بلوچستان حکومت نے ضلع نوشکی میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع نوشکی میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 28 جولائی 2026 کو نوشکی ویسٹرن بائی پاس پر قائم فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چوکی پر حملے کے بعد سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس قرار دی گئی۔ یہ فیصلہ سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں اور ضلعی انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا۔
حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، حساس سرکاری تنصیبات اور قومی شاہراہ این-40 پر دہشت گرد حملوں میں اضافے کے باعث عوامی جان و مال، سرکاری و نجی املاک اور ٹریفک کی روانی کو خطرات لاحق ہیں۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ خفیہ اطلاعات کے مطابق اگست کے دوران دہشت گردی کے مزید واقعات کا خدشہ موجود ہے، جن میں سیکیورٹی اداروں، سرکاری تنصیبات اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حکومت بلوچستان نے نوشکی میں 28 جولائی 2026 کی رات 8 بجے سے 31 جولائی 2026 کی رات 8 بجے تک مکمل کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کرفیو کے دوران کسی بھی شہری کو مجاز حکام کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے یا ضلع کی حدود میں نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام عوامی اجتماعات، جلوس، غیر ضروری سفر اور نقل و حرکت پر پابندی عائد رہے گی۔
ڈپٹی کمشنر نوشکی سیکیورٹی اداروں سے مشاورت کے بعد سرکاری افسران، ایمرجنسی طبی عملے، ریسکیو سروسز، یوٹیلیٹی اداروں اور عوامی مفاد میں ضروری افراد کو استثنیٰ دے سکیں گے۔
حکام نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کرفیو پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے۔






