واٹس ایپ کے مجوزہ یوزرنیم فیچر پر متعدد ممالک نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر صارفین فون نمبر کے بجائے صرف یوزرنیم کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے تو دہشتگردی، مالی فراڈ اور سائبر جرائم کے خلاف تحقیقات میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
صومالیہ کی حکومت نے اس معاملے پر میٹا سے رابطہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیچر متعارف کرانے سے قبل اس کے سیکیورٹی پہلوؤں پر واضح وضاحت فراہم کی جائے۔ صومالی وزیر برائے مواصلات و ٹیکنالوجی احمد عثمان دیری کے مطابق فون نمبرز کے چھپ جانے سے مجرموں اور شدت پسند عناصر کی شناخت اور ان کا سراغ لگانا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صومالیہ کی صورتحال دیگر ممالک سے مختلف ہے کیونکہ ملک کئی برسوں سے القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم الشباب کی شورش کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ معیشت کا ایک بڑا حصہ موبائل منی سروسز پر قائم ہے۔ ان کے مطابق اگر صارفین ایسے یوزرنیم استعمال کریں جن سے ان کی شناخت آسانی سے نہ ہو سکے تو مالی دھوکا دہی، جعلسازی اور شہریوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صومالی حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم الشباب ماضی میں واٹس ایپ کو بھتہ خوری، دھمکیوں اور پروپیگنڈا سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ صومالی انٹیلی جنس ادارے نے 2024 میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے الشباب سے منسلک متعدد واٹس ایپ گروپس کے خلاف کارروائی کی اور ان سے وابستہ کئی فون نمبرز معطل کیے۔
بھارت نے بھی واٹس ایپ کے اس نئے فیچر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ فون نمبر چھپنے کی صورت میں جعلی شناخت استعمال کرنے والے افراد کے لیے لوگوں کو نشانہ بنانا آسان ہو سکتا ہے۔ بھارت نے میٹا سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی خدشات دور ہونے تک اس فیچر کے اجرا پر نظرثانی کی جائے۔
میٹا کے مطابق واٹس ایپ کا یوزرنیم فیچر ابھی تک عام صارفین کے لیے متعارف نہیں کرایا گیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ بنانے اور استعمال کرنے کے لیے فون نمبر کی ضرورت برقرار رہے گی، جبکہ نئے فیچر میں فراڈ اور غلط استعمال سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ صارفین کی رازداری اور قومی سلامتی کے درمیان توازن کی بحث کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔ امکان ہے کہ عالمی سطح پر اس فیچر کے اجرا سے قبل مختلف حکومتوں اور میٹا کے درمیان مزید مشاورت جاری رہے گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






