اسلام آباد (آئی این پی): وفاقی حکومت نے بجلی صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری کرتے ہوئے نیشنل گرڈ کمپنی کو سسٹم اخراجات کی مد میں 200 ارب روپے وصول کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل گرڈ کمپنی نے گزشتہ تین سال کے ریونیو اخراجات کی وصولی کے لیے نیپرا سے رجوع کیا تھا۔ درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد نیپرا نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے اخراجات کی وصولی کی منظوری دے دی۔
فیصلے کے تحت ان اخراجات کی وصولی کا عمل یکم اگست 2026 سے شروع ہوگا۔ یہ رقم ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)، جن میں لیسکو سمیت دیگر ادارے شامل ہیں، کے ذریعے صارفین سے وصول کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ڈسکوز کو ٹیرف کی مد میں اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت دی جائے گی، جس کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے کے باعث آئندہ مہینوں میں بجلی کے بلوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ وصولیاں نیشنل گرڈ کے سسٹم اخراجات پورے کرنے کے لیے کی جائیں گی، تاہم اس کا براہِ راست اثر ملک بھر کے بجلی صارفین کے ماہانہ بلوں پر پڑنے کا امکان ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






