وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ بنیادوں پر تعین کے لیے سفارشات وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی، جس کے بعد قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر حکومت ہفتہ وار قیمتوں کے بجائے روزانہ بنیادوں پر قیمتوں کے تعین کے نظام پر غور کر رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 79 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ خام تیل 86 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہی قیمتیں بالترتیب 68 اور 71 ڈالر کے قریب تھیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی قیمت بھی 83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک عالمی قیمتوں میں اضافے سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، اسی لیے حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اصلاحاتی کمیٹی کے اجلاس میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی، جن کی روشنی میں نیا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ یا دھمکیوں کے ذریعے نہیں کھلے گی۔
ایرانی فوج کے بیان کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی بیرونی مداخلت یا معاہدوں کی مبینہ خلاف ورزی کو قبول نہیں کرے گا۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






