اسلام آباد (آئی این پی): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے معافی کا مطالبہ بے بنیاد ہے، معافی تو ان لوگوں کو مانگنی چاہیے جنہوں نے عوام کو متوازی لشکر بنانے کا مشورہ دیا۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا محمود خان اچکزئی کے بعد مولانا فضل الرحمان پر بھی ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے، کہا کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ مولانا نے ایسی کون سی بات کی ہے جس پر معافی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ خیبرپختونخوا میں متوازی لشکر بنا کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں تو اصل معافی اس بیان پر مانگی جانی چاہیے، نہ کہ مولانا فضل الرحمان سے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال پر بھی جوابدہی ہونی چاہیے، کیونکہ وہاں گورننس بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے پنجاب میں صرف ان حالات کی نشاندہی کی اور یہ سوال اٹھایا کہ عوام کو متوازی لشکر بنانے کی بات کرنا کہاں تک مناسب ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر احسن اقبال نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فوجی جوانوں کی عظیم قربانیوں کو محض تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ہمیشہ احترام کا رشتہ رہا ہے، تاہم ان کے حالیہ بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ انہوں نے جذبات میں آکر شہدا کی قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کر کے پیش کیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






