آبنائے ہرمز کی کشیدگی، عالمی تیل قیمتوں میں اضافہ؛ پاکستان میں پٹرول مہنگا ہونے کا خدشہ
آبنائے ہرمز کی صورتحال اور امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں بے یقینی بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 82 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ قیمتیں بالترتیب 68 اور 71 ڈالر کے قریب تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات نے عالمی سپلائی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے باعث تیل درآمد کرنے والے ممالک کو اضافی مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی پر غور شروع کر دیا ہے۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت اجلاس میں پٹرولیم قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اصلاحاتی کمیٹی اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی، جس کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نئے طریقہ کار کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ماہر معیشت سید واصف نقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کا فیصلہ فوری طور پر کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت ممکنہ طور پر ایک اوسط طریقہ کار اختیار کرے گی، جس میں شرح تبادلہ، لیوی اور دیگر عوامل کو شامل کیا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






