//

ٹرمپ کی ایران کے ‘پک ایکس ماؤنٹین’ کو اڑانے کی دھمکی، یہ پہاڑ اہم ترین ہدف کیوں ؟ جانئے

 

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ایک انتہائی محفوظ زیرِ زمین جوہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تنصیب “پِک ایکس ماؤنٹین” کے اندر واقع ہے۔

پیر کے روز ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ “ہم اب پِک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے جا رہے ہیں، ایرانیوں کو کہہ دیں کہ وہ اس کے لیے تیار رہیں۔”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اس مقام پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور فی الحال وہاں کسی غیر معمولی سرگرمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی صورتحال بہتر نہیں ہے اور جب بھی امریکا کو کسی نئی جوہری سرگرمی کی اطلاع ملتی ہے تو وہ اسے فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بناتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا مستقبل میں اس پہاڑی تنصیب کو بھی ہدف بنا سکتا ہے۔

جس مقام کا صدر ٹرمپ نے ذکر کیا، اسے مقامی طور پر “کوہ کلنگ گزلا” کہا جاتا ہے، جو ایران کے نطنز جوہری مرکز کے قریب واقع ایک پہاڑی علاقہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اس پہاڑ کے اندر گہرائی میں سرنگوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جسے انتہائی مضبوط بنایا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ تنصیب اس قدر محفوظ ہے کہ زمین کے اندر ہدف کو نشانہ بنانے والے طاقتور بنکر بسٹر بم بھی اسے مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

گزشتہ سال ایران کے نطنز، فردو اور اصفہان کے جوہری مراکز پر امریکی حملوں کے بعد تیار کی گئی ایک دستاویزی فلم کے پروڈیوسر اور رپورٹر سیبسٹین واکر کا کہنا ہے کہ حالیہ سرگرمیوں سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آیا ان حملوں کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو مزید گہرائی میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

دستاویزی فلم میں استعمال کی گئی سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق پہاڑ کے اندر جانے والی سرنگوں کے داخلی راستوں کو مٹی اور پتھروں سے مزید مضبوط کیا گیا ہے، تاکہ ممکنہ فضائی حملوں سے انہیں زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close