عظیم فٹبالر اور سابق کپتان انتقال کر گئے

ارجنٹائن فٹبال کے عظیم کپتان انٹونیو ریٹین 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ارجنٹائن کے سابق کپتان اور فٹبال کے لیجنڈ انٹونیو اوبالڈو ریٹین 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، جس پر دنیا بھر کے فٹبال حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ریٹین نے 1959 سے 1969 تک ارجنٹائن کی قومی فٹبال ٹیم کی نمائندگی کی اور 1962 اور 1966 کے فیفا ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں بھی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے کلب کیریئر کا بیشتر حصہ بیونس آئرس کے مشہور کلب بوکا جونیئرز کے ساتھ گزارا، جہاں 1956 سے 1970 تک 382 میچز کھیلے اور 28 گول اسکور کیے۔

ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن (اے ایف اے) نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انٹونیو ریٹین قومی ٹیم کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں اور نمایاں ترین شخصیات میں شامل تھے۔

اے ایف اے کے بیان میں کہا گیا کہ ریٹین نہ صرف ارجنٹائن کے بہترین کپتانوں میں شمار ہوتے تھے بلکہ انہوں نے اپنے منفرد انداز، جذبے اور کھیل سے عالمی فٹبال پر ایک دیرپا اثر چھوڑا۔ ان کی میراث ہمیشہ ان لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی جو سمجھتے ہیں کہ ارجنٹائن کی قومی جرسی پہننا صرف ایک کھیل نہیں بلکہ پورے ملک کی نمائندگی کرنا ہے۔

انٹونیو ریٹین 1966 کے انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے کپتان تھے، جہاں وہ فٹبال کی تاریخ کے ایک مشہور واقعے کا حصہ بنے۔ انگلینڈ کے خلاف کوارٹر فائنل میچ میں جرمن ریفری روڈولف کریٹلین نے انہیں میدان سے باہر بھیج دیا، حالانکہ اس وقت فٹبال میں یلو اور ریڈ کارڈز کا موجودہ نظام موجود نہیں تھا۔

ریٹین ریفری کے فیصلے پر حیران اور ناخوش تھے کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ وہ فیصلہ سمجھنے کے لیے مترجم کا مطالبہ کرتے رہے اور فوری طور پر میدان چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ اس دوران ایک یادگار منظر پیش آیا جب وہ ملکہ الزبتھ دوم کے لیے مخصوص ریڈ کارپٹ پر جا بیٹھے، جبکہ میدان سے روانگی سے قبل انہوں نے برطانوی پرچم کو بھی مروڑ دیا۔

اس واقعے نے عالمی فٹبال میں ریفری کے فیصلوں کو واضح کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا، جس کے بعد 1970 کے ورلڈ کپ میں فیفا نے کھلاڑیوں کو وارننگ اور اخراج کے فیصلے واضح طور پر سمجھانے کے لیے باضابطہ طور پر یلو اور ریڈ کارڈز کا نظام متعارف کرایا۔

انٹونیو ریٹین کو ارجنٹائن فٹبال کی تاریخ کے ان کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے میدان میں قیادت، جذبے اور قومی فخر کی منفرد مثال قائم کی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close