شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار ترک کرنے پر مجبور کرنے کی تمام کوششیں ناکام

پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے نیٹو کے حالیہ سربراہی اجلاس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہونی ہے تو اس کا آغاز پہلے امریکا کے اتحادی ممالک سے کیا جانا چاہیے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسلحے کے ذخائر میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ نیٹو کا حالیہ اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اتحاد جنگ اور محاذ آرائی کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مغربی ممالک کی جانب سے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار ترک کرنے پر مجبور کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق اگر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوئی مہم چلائی جانی ہے تو اس کا آغاز ان نیٹو رکن ممالک سے ہونا چاہیے جو مشترکہ جوہری انتظامات کا حصہ ہیں۔

شمالی کوریا نے گزشتہ روز بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی جوہری صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گا، جبکہ رہنما کم جونگ اِن نے ملکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور دیا ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ شمالی کوریا اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور خطے میں امن کے تحفظ کے لیے اپنے خودمختار حقوق کا ذمہ دارانہ استعمال جاری رکھے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close