اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے اور امید ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مثبت حل نکالا جا سکتا ہے۔
آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مسلسل کوشش کر رہی ہے تاکہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوں۔ اگر سنجیدگی سے مذاکرات کیے جائیں تو مظاہرین کو بھی اعتماد میں لیا جا سکتا ہے اور تنازع خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوامی غصے کا رخ پاکستان کے خلاف نہیں ہونا چاہیے بلکہ نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بعض سیاسی بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مناسب نہیں کہ کوئی وزیر یہ دعویٰ کرے کہ “دس نشستیں تو جیب میں پڑی ہیں”، کیونکہ ایسے بیانات سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کرتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں بارہ نشستوں کے معاملے پر بھی مذاکرات کے ذریعے پیش رفت ممکن ہے اور یہ ایسا مسئلہ نہیں جس پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو قائل نہ کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا اس معاملے میں کوئی ذاتی یا سیاسی ایجنڈا نہیں، بلکہ مقصد صرف مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اللہ کے فضل سے اس سلسلے میں مثبت پیش رفت ضرور ہوگی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






