آئی فون بہترین سمارٹ فونز میں شمار ہوتا ہے لیکن زیادہ قیمت کی وجہ سے بہت سے صارفین استعمال شدہ یا سیکنڈ ہینڈ آئی فون خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اگرچہ یہ کم قیمت میں بہتر کارکردگی فراہم کر سکتا ہے تاہم اس کے ساتھ کئی نقصانات بھی وابستہ ہیں۔
آئی او ایس اپ ڈیٹس کی محدود سپورٹ
پرانے آئی فونز کو مستقبل میں آئی او ایس اپ ڈیٹس اور نئے اے آئی فیچرز کی سپورٹ ملنے کی ضمانت نہیں ہوتی۔ ایپل وقت کے ساتھ پرانے ماڈلز کی سافٹ ویئر سپورٹ ختم کر دیتا ہے، جس سے صارفین نئے فیچرز اور سیکیورٹی اپ ڈیٹس سے محروم ہو سکتے ہیں۔
پرانا ہارڈویئر اور محدود فیچرز
استعمال شدہ آئی فون میں پرانا پروسیسر، کمزور بیٹری اور محدود اسٹوریج جیسی خامیاں ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ نئے ماڈلز میں شامل جدید فیچرز، جیسے بہتر کیمرہ، جدید ڈسپلے ٹیکنالوجی اور دیگر سہولیات، پرانے فونز میں دستیاب نہیں ہوتیں۔
وارنٹی اور ایپل کیئر پلس کی عدم موجودگی
زیادہ تر سیکنڈ ہینڈ آئی فونز کی وارنٹی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر بیٹری، اسکرین یا کسی دوسرے پرزے میں خرابی آ جائے تو مرمت پر بھاری اخراجات اٹھانا پڑ سکتے ہیں، کیونکہ آئی فون کے اصلی پرزے کافی مہنگے ہوتے ہیں۔
ناقابلِ اعتبار سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ
استعمال شدہ فون خریدتے وقت جعلی پرزوں، چوری شدہ ڈیوائس یا پوشیدہ ہارڈویئر خرابیوں کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ اس لیے خریداری سے پہلے فون کا سیریل نمبر، بیٹری ہیلتھ، آئی کلاؤڈ لاک اور تمام فیچرز کی اچھی طرح جانچ کرنا ضروری ہے۔
بیٹری کے مسائل
استعمال شدہ آئی فون کا سب سے عام مسئلہ بیٹری کی کمزور صحت ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بیٹری کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث فون بار بار چارج کرنا پڑتا ہے، کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات بیٹری تبدیل کروانے پر اضافی خرچ بھی کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بجٹ محدود ہو تو بہت پرانا یا نامعلوم استعمال شدہ آئی فون خریدنے کے بجائے اپنی استطاعت کے مطابق نسبتاً نیا ماڈل خریدنا بہتر انتخاب ہے، تاکہ زیادہ عرصے تک سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، بہتر کارکردگی اور وارنٹی جیسی سہولیات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






