پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے اور پاکستان اپنے جائز آبی حقوق پر کسی بھی قسم کا غیرقانونی قبضہ یا تجاوز ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دریاؤں کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوششیں بین الاقوامی تعلقات میں ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی وقار، معاشی خوشحالی اور ماحولیاتی پائیداری کی بنیاد ہے، جبکہ یہ سیاسی سرحدوں کا پابند نہیں بلکہ زندگی کا ضامن ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معاہدوں سے انحراف ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو نقصان پہنچاتا ہے اور قوانین کی بالادستی پر قائم بین الاقوامی نظام کو بھی کمزور کرتا ہے، جس پر عالمی امن و سلامتی کا انحصار ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا پہلے ہی متعدد چیلنجز سے دوچار ہے، اس لیے عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا تاکہ دستیاب آبی وسائل کا منصفانہ اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے فروغ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور عالمی قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور آبی حقوق کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات اور آبی حقوق کے تحفظ کے لیے سفارتی اور قانونی ذرائع بروئے کار لاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے پانی کا رخ موڑنے، روکنے یا اس میں کمی لانے کی کسی بھی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ قومی اتفاق رائے سے کیا گیا تھا اور پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے عزم پر ثابت قدم ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close