اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مشکل حالات میں ہمیشہ مولانا فضل الرحمان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اس لیے حکومت کو بھی آزاد کشمیر کے معاملے میں ان کی ثالثی کی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تمام سیاسی قوتیں چاہتی ہیں کہ آزاد کشمیر کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے موجودہ بحران کا پرامن حل ممکن ہو اور آئندہ انتخابات صاف، شفاف اور غیرمتنازع انداز میں منعقد ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی دونوں کو عوامی تحریکوں کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور وہ مختلف معاملات میں مولانا فضل الرحمان کی سیاسی رہنمائی سے استفادہ کرتے رہتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ حکومت کو باقاعدہ تجویز دی گئی ہے کہ آزاد کشمیر کے معاملے میں مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی پیشکش قبول کی جائے تاکہ تنازع کا قابل قبول حل نکالا جا سکے۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قومی نوعیت کے معاملات میں سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے ناگزیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی نے انہیں ثالثی کی درخواست کی تھی، جبکہ بلاول بھٹو نے بھی پارلیمنٹ میں ان کی ثالثی کی حمایت کی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چونکہ بلاول بھٹو حکومت کا حصہ ہیں، اس لیے ان کا پیغام وزیراعظم تک بھی پہنچ رہا ہے اور امید ہے کہ حکومت اس معاملے پر مثبت پیش رفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کا ان سے ملاقات کے لیے آنا خود ایک مثبت پیش رفت ہے، جبکہ 12 نشستوں سمیت دیگر معاملات مذاکرات کی میز پر طے کیے جا سکتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






