ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

لاہور: کاہنہ کے علاقے بستی عیدگاہ میں قائم ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ 8 دیگر زخمی ہوگئے۔ ریسکیو ٹیموں اور مقامی افراد نے فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دیں، جبکہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے خدشے کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری ہے۔

ایدھی حکام کے مطابق جاں بحق بچوں کی لاشیں جنرل اسپتال منتقل کی جا رہی ہیں، جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ امدادی کارروائی کے دوران 3 سے 4 بچوں کو بے ہوشی کی حالت میں ملبے سے نکالا گیا۔

ڈی جی ریسکیو کے مطابق بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے اور تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے دبے ہوئے افراد کو نکالنے کی کوشش جاری ہے۔

ٹی ایچ کیو کاہنہ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 7 سالہ ماہ نور فاروق، 5 سالہ مرتضیٰ عاطف، 9 سالہ غلام نبی، 6 سالہ تابشہ شہزاد، 16 سالہ خدیجہ وسیم، 6 سالہ سلمان وسیم اور 8 سالہ فواد عابد شامل ہیں، جبکہ دیگر جاں بحق بچوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں 8 سالہ ابیہا، 10 سالہ فاریہ، 11 سالہ مرتضیٰ، 8 سالہ ایان، 7 سالہ رابعہ اور 30 سالہ حمیدہ ریحان سمیت دیگر افراد زیر علاج ہیں اور بیشتر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

حادثے پر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے فوری طور پر ابتدائی رپورٹ طلب کرتے ہوئے صوبائی وزرا، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو جائے وقوعہ پر پہنچنے، امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے اور زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے 14 بچوں کی ہلاکت اور 8 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیوشن سینٹر ایک سنگل اسٹوری عمارت میں قائم تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق چھت پر جاری تعمیراتی کام کے باعث اضافی وزن پڑا، جس سے گارڈر ٹوٹ گیا اور چھت منہدم ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور غفلت کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم بھی طلب کر لی گئی ہے تاکہ تکنیکی بنیادوں پر مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔

ڈی آئی جی کے مطابق پولیس اور ریسکیو اداروں کی اولین ترجیح زخمیوں کا علاج، متاثرہ خاندانوں کی مدد اور واقعے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close