ہیکرز کی جانب سے ایپل اور ٹیسلا کے حساس ڈیزائن اور خفیہ دستاویزات ڈارک ویب پر لیک کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد متعلقہ کمپنیوں اور ان کے سپلائرز نے اپنے اندرونی سیکیورٹی نظام مزید سخت کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ بڑا ڈیٹا لیک ایپل کے بھارتی سپلائر ٹاٹا الیکٹرانکس پر ہونے والے سائبر حملے کے نتیجے میں سامنے آیا۔ حملے کے بعد کمپنی نے اپنے حساس نیٹ ورکس اور سسٹمز تک ملازمین کی رسائی محدود کر دی ہے تاکہ مزید ڈیٹا چوری ہونے سے روکا جا سکے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بدنامِ زمانہ رینسم ویئر گروپ “ورلڈ لیکس” نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ٹاٹا الیکٹرانکس کی دو لاکھ سے زائد خفیہ فائلیں چوری کر لی ہیں۔ ہیکرز نے مبینہ طور پر کمپنی کو یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر بھاری تاوان ادا نہ کیا گیا تو چوری شدہ معلومات عوام کے سامنے جاری کر دی جائیں گی۔
ڈیٹا لیک کی اطلاعات کے بعد ایپل نے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ٹاٹا الیکٹرانکس نے سائبر حملے کی وجوہات اور ممکنہ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں۔
تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل اور ٹیسلا جیسی بڑی کمپنیوں کے مستقبل کے ڈیزائن اور خفیہ معلومات کا افشا ہونا نہ صرف ان کی سیکیورٹی بلکہ ان کی کاروباری حکمتِ عملی اور مارکیٹ ویلیو کے لیے بھی بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






