اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور دیگر شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے یومِ عاشور آج (جمعہ) مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں شبیہِ علم، شبیہِ ذوالجناح اور تعزیے کے جلوس برآمد ہوں گے جبکہ مجالسِ عزا کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ علما و ذاکرین شہدائے کربلا کی قربانیوں اور حضرت امام حسینؓ کی تعلیمات پر روشنی ڈالیں گے۔
یومِ عاشور کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ اور دیگر حساس شہروں میں موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رکھی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
کراچی میں جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ڈبل سواری اور ڈرون اڑانے پر پابندی عائد ہے جبکہ رینجرز کے دستے بھی پولیس کی معاونت کر رہے ہیں۔ جلوس کے راستوں پر واقع مارکیٹیں سیل کر دی گئی ہیں۔
لاہور میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی، اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہو چکا ہے جو شام کو کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ پولیس کے مطابق شہر میں 231 مجالس اور 46 جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے 11 ہزار 500 سے زائد افسران و اہلکار تعینات ہیں۔
پشاور اور گردونواح میں بھی ذوالجناح کے جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت ہزاروں پولیس اہلکار تعینات ہیں جبکہ جلوسوں سے قبل بم ڈسپوزل یونٹ کی ٹیمیں راستوں کی کلیئرنس کر رہی ہیں۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی ناکہ بندی کی گئی ہے۔
راولپنڈی میں مرکزی جلوس کے لیے پولیس کے چھ ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ رینجرز اور کوئیک رسپانس فورس کے دستے بھی الرٹ ہیں۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بھی یومِ عاشور مذہبی عقیدت کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ کوئٹہ کا مرکزی جلوس امام بارگاہ علمدار سے برآمد ہوگا جبکہ سیکیورٹی کے پیشِ نظر موبائل فون سروس بند کر دی گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






