میرپور: چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا ہے کہ نئے انرول ہونے والے وکلاء پیشہ ورانہ مہارت، دیانتداری اور ضابطۂ اخلاق کی پابندی کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ وکلاء نظامِ انصاف کا ایک اہم ستون ہیں اور وکالت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا عملی مظہر ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں نئے وکلاء کی لائسنس انرولمنٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس رضا علی خان اور جسٹس چوہدری خالد یوسف بھی موجود تھے۔
چیف جسٹس جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ بینچ اور بار کے درمیان باہمی اعتماد، احترام اور ہم آہنگی ہی ایک مضبوط اور مؤثر نظامِ عدل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان وکلاء مستقبل کے معمار ہیں اور انہیں انصاف کی سربلندی، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ منکسرالمزاج، اصول پسند اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے پابند وکلاء ہی اپنے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے تحریکِ پاکستان میں وکلاء کی تاریخی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کسی بھی مہذب معاشرے کی ضمانت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے وکلاء کا دیانتداری، تحمل اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکالت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں علم اور تجربے کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، اس لیے نوجوان وکلاء کو مسلسل سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا عمل جاری رکھنا چاہیے۔
تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس جسٹس راجہ سعید اکرم خان، سینئر جج جسٹس رضا علی خان اور جسٹس چوہدری خالد یوسف نے نئے انرول ہونے والے وکلاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے اور انہیں وکالت کے شعبے میں شمولیت پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






