آزاد کشمیر کے فیصلے وفاقی وزراء یا صوبے نہیں بلکہ وہاں کے عوام خود کریں گے، چیئرمین پیپلز پارٹی

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےقومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ میں آزاد کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتا ہوں، میں آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی طرح نہیں دیکھنا چاہتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپنے بجٹ خطاب میں کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ 1947 سے 2027 تک آزاد کشمیر کو ایک ہی انداز میں چلایا جائے، آزاد کشمیر میں ایک نئی نسل جوان ہوچکی ہے، جو اپنے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے اور ہم نے ان کو حقوق کی جدوجہد سکھائی ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم آزاد کشمیر کو نیا منشور اور نیا پروگرام دیں، یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو ووٹ کا حق، بولنے کا حق، آئین اور قانون بنانے کا حق اور اپنا مستقبل طے کرنے کا حق خود ہونا چاہئیے، ہمیں ان کو دکھانا ہوگا کہ پاکستان کے پاس ان کے تمام مسائل کا حل ہے، ہم کب تک آزاد کشمیر کو پرانی تنخواہ پر چلائیں گے۔

چیئرمین  پیپلزپارٹی  نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ہمیں یہ اطمینان دلانا ہوگا کہ ان کے فیصلے کوئی ایک وفاقی وزیر یا دوسرے صوبے نہیں کریں گے بلکہ وہ خود کریں گے، یہ بھی کہا کہ میں را کا ایجنٹ نہیں ہوں، میں اس پاکستان پیپلزپارٹی کا نمائندہ ہوں جس کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم مہاجرین کی نمائندگی اور ان کے ووٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے اور یہ ممکن ہے کہ اس مؤقف کو اختیار کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے عوام کے جائز تحفظات کو دور کیا جائے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر ہی کرے گا، اس سلسلے میں انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی جو نشستیں ہیں، ان کا فیصلہ تناسب کے حساب سے مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیا جائے، آزاد کشمیر کی مخصوص نشستیں مہاجرین کو دی جائیں، مہاجرین کے ووٹ کے اختیار کے لئے ان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ آزاد کشمیر جاکر اپنا ووٹ دے سکتے ہوں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ رائے شماری کا حق ملنے تک کشمیر کو ایسے ہی چلایا جائے گا، آزاد کشمیر کو رائے شماری کا حق ملنے تک ہمیں عبوری طور پر آزاد کشمیر کے نمائندوں کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینا ہوگی، میں وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں کہ مظفرآباد کا عوامی نمائندہ میرے ساتھ قومی اسمبلی میں بیٹھے، اگر آزاد کشمیر کو سبسڈی اور بجلی سے متعلق کوئی مدعا اٹھانا پڑے، اگر میرپور کو ائیرپورٹ چاہئیے تو ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لاڑکانہ کا رکن قومی اسمبلی اس کے لئے آواز بلند کرے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر میں آج جو کچھ ہورہا ہے، اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے، انہوں نے اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ بس اب بہت ہوگیا، اب اٹھ جائیں، جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، ان کے خلاف ایکشن نہیں ہونا چاہئیے تاہم جنہوں نے جرم کیا ہے، ان کے خلاف قانون کو ایکشن لینا ہوگا، آپ خود ان لوگوں کو قانون کے حوالے کریں جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، مظاہرین خود کو قانون ہاتھ میں لینے والے انتہاپسند عناصر سے الگ کریں، احتجاج کے غیرمشروط خاتمے کے بعد مطالبات کی تکمیل کا سیاسی راستہ نکل سکتا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ ہم آپ کو کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، جس انداز میں احتجاج ہورہا ہے، ایسی صورت میں مطالبات کیسے پورے ہوسکتے ہیں، احتجاج کی وجہ سے غذائی اجناس اور پیٹرول تک آزاد کشمیر نہیں پہنچ پارہا، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بات نہیں کریں گے یا کسی وعدے پر عمل درآمد نہیں کریں گے، آپ سیاسی انداز میں جدوجہد کریں تو آپ کو سیاسی کامیابی بھی ملے گی۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظاہرین سے کہا کہ یہ یاد رکھیں کہ بندوق کے زور پر آئینی ترامیم نہیں ہوسکتیں، مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے ہمیں مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے قائل کرنا ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوال کیا کہ جب آزاد کشمیر کے تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے مگر اس کے لئے انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے ٹرتھ اینڈ ریکنسیلشن فورم بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایسا فورم بنایا جائے اور ایک ہی بار میں تمام مطالبات پورے ہوجائیں تاکہ بار احتجاج کی نوبت نہ آئے، اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ان انتخابات میں حصہ لے گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close