بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر گاڑیوں اور پراپرٹی پر ٹیکسز کے حوالے سے تجاویز کی تفصیلات آ گئیں۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیب میں کمی، سپر ٹیکس میں 2فیصد کمی، ایکسپورٹس پر ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کے خاتمے اور پراپرٹی سیکٹر کیلئے بڑے ریلیف کی تجویز دی ہے، تاہم سولر پینلز، بائبرڈ گاڑیوں اور تقریباً دو درجن کے قریب دیگر اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18فیصد کی سٹینڈرڈ شرح تک کرنے کیلئے بات چیت جاری ہے۔شاہ زیب خانزادہ کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف سے درخواست کی ہے کہ ماحول دوست اور توانائی کی بچت کو یقینی بنانے کیلئے الیکٹرک گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کو کم ہی رکھا جائے،
یہ درخواست ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلیٹی کے تحت 1.4ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کی گئی ہے،اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی ہے کہ 30جون 2026کو ختم ہونے والے رواں مالی کیلئے ایف بی آر کے ٹیکس ہدف کو کم کرکے 13ہزار428ارب روپے کرنے کے بعد، اب آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر اگلے مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کے ہدف کو بڑھا کر 15ہزار264ارب روپے کرنے کیلئے اعدادوشمار کا جوڑ توڑ کرنا، حکومت کیلئے انتہائی مشکل ہوتا جارہا ہے،اس کا مطلب ہے کہ ایف بی آر کو موجودہ سال کے ریوائز ٹارگٹس سے 1ہزار 836ارب روپے زیادہ اگلے سال اکٹھے کرنے ہوں گے،مگر اس وقت یہ توقع بھی کی جارہی ہے کہ ایف بی آر اس مالی سال میں 13ہزار ارب روپے اکٹھے کر پائے گا، یعنی اگلے مالی سال میں موجودہ مالی سال سے تقریباً سوا2ہزار ارب روپے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے تجویز دی ہے کہ مڈل انکم گروپ کے سیلری سلیب کیلئے ٹیکس میں 5فیصد کی کمی کی جائے،مگر اس تجویز پر عملدرآمد اس بات پر منحصر ہےے کہ آئی ایم ایف اس تجویز سے اتفاق کرتا ہے یا نہیں جب کہ کارپوریٹ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس کو10فیصد سے کم کرکے آٹھ فیصد کرنے کی تجویز ہے حکومت نے پراپرٹی کی خریدوفروخت پر بڑے ریلیف کی تجویز دی ہے،جس کے تحت ٹیکس فائلرز کیلئے پراپرٹی کی خریدوفروخت پر ٹیکس زیرو کردیا جائے گا مگر آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ پراپرٹی کی ٹرانزیکشن پر کم از کم ٹیکس ضرور ہونا چاہئے،چاہے وہ اعشاریہ 5فیصد سے ایک فیصد کی رینج میں ہو تاکہ ڈاکیو منٹیشن کو یقینی بنایا جا سکے،اس کے علاوہ حکومت نے اس وقت 18فیصد سٹینڈرڈ سیلزٹیکس نافذ کیا ہوا ہے ، مگر آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ جن اشیا پر سیلزٹیکس کی رعایت ہے ان پر بھی 18فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کیا جائے،اور یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ حکومت کن اشیا پر سیلز ٹیکس پر رعایت لینے میں کامیاب ہوتی ہے،تنخواہ دار طبقے کیلے ٹیکس سلیب میں کمی کی تجویزپر حکومت کو آئی ایم ایف کی منظوری کا انتظارہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






