نئی دہلی: بھارت کی ریاست گجرات میں شدید گرمی اور موسمی دباؤ کے باعث نایاب ایشیائی شیروں کے 8 بچے ہلاک ہوگئے، جس کے بعد جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق حلقوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اموات گر سینکچری لینڈ اسکیپ میں پیش آئیں، جو دنیا میں ایشیائی شیروں کا آخری قدرتی مسکن سمجھا جاتا ہے۔ ریاستی وزیر جنگلات ارجن موڈھواڈیا نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق شیروں کے بچوں کی ہلاکت کسی متعدی بیماری یا وائرس کے باعث نہیں ہوئی بلکہ شدید گرمی اور جسمانی کمزوری ان کی موت کی بنیادی وجوہات تھیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں بیمار ہونے والے 17 شیروں میں سے 12 کو احتیاطی طور پر قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ مناسب دیکھ بھال اور علاج کے بعد انہیں صحت یاب قرار دے کر دوبارہ جنگل میں چھوڑ دیا گیا ہے۔
وزیر جنگلات کے مطابق باقی 5 شیر بھی اب صحت مند ہیں اور انہیں بھی جلد ان کے قدرتی ماحول میں واپس چھوڑ دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں کسی متعدی بیماری کے باعث شیروں کی موت کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی، البتہ ایک شیرنی حمل کے دوران پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوئی۔
ماہرین کے مطابق ایشیائی شیر دنیا کی نایاب ترین بڑی بلیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی پوری جنگلی آبادی تقریباً گجرات کے گر جنگلات تک محدود ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث اس نایاب نسل کو درپیش خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






