ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جارحیت پسندوں (امریکا اور اسرائیل) کو اپنی سرزمین تہران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے ریڈار سسٹم اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد فوج نے یہ حملہ ہفتے کی صبح سیرک اور جزیرہ قشم میں کیا، جبکہ ان تنصیبات کا مقصد ملکی سرحدوں اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی حفاظت کرنا تھا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حملہ یکم اپریل کی جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے جس کی وہ پُرزور مذمت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے جائز دفاع کے حق کے تحت جارحانہ اقدام کا مؤثر جواب دیا ہے اور جارحیت کے منصوبہ سازوں کے مقاصد ناکام بنا دیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ واشنگٹن صرف کشیدگی کم کرنے کا عزم نہیں رکھتا بلکہ اپنی مہم جوئی سے خطے کی سلامتی کو خطرات میں ڈال رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق غیر قانونی اقدامات کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے اور کشیدگی میں کسی بھی اضافے کا ذمہ دار بھی امریکا ہوگا۔
عباس عراقچی نے مطالبہ کیا کہ خطے کے ہمسایہ ممالک اچھی ہمسائیگی کے اصول پر عمل کریں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سرزمین کو کسی بھی جارح فریق کے استعمال سے روکیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






