کیا بھارت آبنائے ہرمز کی طرح آبنائے ملاکا کو بند کر سکتا ہے؟

نئی دہلی : بھارت کے جنوبی سمندری علاقے میں واقع گریٹ نکوبار جزیرہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں بھارتی حکومت تقریباً 11 ارب ڈالر مالیت کے بڑے ترقیاتی اور اسٹریٹجک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ بعض دفاعی تجزیہ کار اسے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے مقابلے کی حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔

گریٹ نکوبار جزیرہ جغرافیائی طور پر نہایت اہم مقام پر واقع ہے اور آبنائے ملاکا کے قریب ہونے کے باعث عالمی تجارت کے اہم بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے چین کی بڑی مقدار میں توانائی اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

منصوبے کے تحت جزیرے پر جدید ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ، بین الاقوامی ہوائی اڈہ، پاور پلانٹ، سیاحتی مراکز اور تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد کے لیے نئی آبادی قائم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ملاکا کے قریب اس منصوبے سے بھارت کو اسٹریٹجک برتری حاصل ہو سکتی ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل میں چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی صورت میں یہ خطہ مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

دوسری جانب بھارتی بحریہ کے سابق نائب سربراہ شیکھر سنہا سمیت متعدد ماہرین نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ بھارت آبنائے ملاکا کو آبنائے ہرمز کی طرز پر کنٹرول یا دباؤ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور کئی ممالک کے دائرہ اختیار سے منسلک ہے۔

منصوبے پر ماحولیاتی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے لیے تقریباً 9 لاکھ 64 ہزار درختوں کی کٹائی متوقع ہے، جبکہ مقامی شومپین اور نکوباری قبائل کی ثقافت، طرزِ زندگی اور بقا کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

قبائلی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اقوام متحدہ میں بھی اس حوالے سے رپورٹ جمع کرائی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیاں مقامی آبادی کے ماحول، صحت اور ثقافتی شناخت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ گریٹ نکوبار منصوبہ قومی سلامتی، سمندری تجارت اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، اور اس سے ملک کی بحری صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا جبکہ انڈو پیسیفک خطے میں بھارت کی موجودگی مزید مضبوط ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی اور عالمی توانائی راستوں پر بڑھتی توجہ کے بعد آبنائے ملاکا کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جس کے باعث یہ منصوبہ عالمی سطح پر خصوصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close