لندن : عالمی ای کامرس کمپنی ایمیزون نے برطانیہ میں اپنے جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے گودام روبوٹس متعارف کرا دیے ہیں جو انسانی ہدایات کو سمجھنے اور خودکار طور پر کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایمیزون نے لندن کے مشرقی علاقے ڈارٹفورڈ میں ایک تقریب کے دوران اپنے نئے نسل کے پروٹیئس (Proteus) روبوٹ کی نمائش کی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹ گوداموں میں سامان کی نقل و حرکت اور آرڈر پروسیسنگ کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنائے گا۔
ایمیزون کے مطابق پروٹیئس روبوٹ میں جدید AI ٹیکنالوجی شامل ہے، جس کے ذریعے ملازمین سادہ ہدایات دے سکیں گے جبکہ روبوٹ خود یہ فیصلہ کرے گا کہ کس کام کو پہلے انجام دینا ہے، کس راستے سے جانا ہے اور عملدرآمد کیسے مکمل کرنا ہے۔
ایمیزون روبوٹکس کے نائب صدر اسکاٹ ڈریسر نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی انسان اور مشین کے درمیان تعاون کے انداز کو تبدیل کر دے گی، اور مستقبل میں ملازمین صرف ہدایات دیں گے جبکہ منصوبہ بندی روبوٹ خود کرے گا۔
تقریب میں کمپنی نے اسٹارک (Stow/Stark) نامی ایک اور روبوٹک سسٹم بھی پیش کیا جو گوداموں میں کنٹینرز کو خودکار انداز میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سسٹم پہلے اسپین کے شہر بارسلونا میں آزمایا گیا تھا اور اب 2027 تک یورپ کے 15 مراکز میں متعارف کرایا جائے گا۔
اسی تقریب میں ولکن (Vulcan) روبوٹ بھی پیش کیا گیا جسے کمپنی کا پہلا “حسِ لمس” رکھنے والا روبوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ روبوٹ اشیا کو زیادہ احتیاط اور درستگی کے ساتھ سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایمیزون نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال یورپ میں 25 سے زائد تیز رفتار ڈیلیوری مراکز قائم کرے گی جن میں برطانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔ کمپنی اپنی سروس کو مانچسٹر اور برمنگھم جیسے شہروں تک بھی توسیع دے گی تاکہ صارفین کو روزمرہ اشیا کم وقت میں فراہم کی جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق ایمیزون کی یہ پیش رفت عالمی ای کامرس اور لاجسٹکس صنعت میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے بڑھتے ہوئے کردار کی واضح مثال ہے، جو مستقبل میں گوداموں کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






