ویب ڈیسک: بینک آف خیبر کے تعاون سے سولر ہوم سسٹم منصوبے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کی صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے 21ویں اجلاس میں 56 ارب روپے سے زائد مالیت کے 41 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں صحت، تعلیم، توانائی، مواصلات، آبپاشی، کھیلوں اور ڈیجیٹل گورننس سمیت مختلف شعبوں کے اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
حکام کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر بنوں، ہزارہ، ملاکنڈ اور مردان ڈویژنز میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔ نئی بلیک ٹاپ سڑکوں، شارٹ روٹس اور متبادل شاہراہوں کی تعمیر سے ٹریفک کی روانی بہتر ہونے اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
اجلاس میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال اور سوات کے علاقے کبل میں پیڈز اسپتال کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔ ضم شدہ اضلاع میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے 100 ماہرین اور طبی عملے کی تعیناتی جبکہ محکمہ صحت میں انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے خیبر پختونخوا کے وسطی اور جنوبی اضلاع میں فلڈ پروٹیکشن منصوبوں کی منظوری دی گئی، جبکہ کوہاٹ میں سماری پایان ڈیم کی تعمیر، کرم اور اورکزئی سمیت مختلف اضلاع میں سڑکوں کی کشادگی و بحالی اور جنوبی وزیرستان میں اہم شاہراہوں کی بہتری کے منصوبے بھی منظور کیے گئے۔
توانائی کے شعبے میں بینک آف خیبر کے تعاون سے سولر ہوم سسٹم منصوبے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی منظوری دی گئی، جبکہ جنوبی وزیرستان اور کرم میں پن بجلی کے منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔
تعلیم کے شعبے میں سوات میں زرعی یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دی گئی، جبکہ کھیلوں کے فروغ کے لیے حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس اور قیوم اسٹیڈیم کے فٹبال گراؤنڈ کی اپ گریڈیشن کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں بے روزگار ویٹرنری گریجویٹس کو موٹر سائیکلوں کی فراہمی، خیبر پختونخوا ڈیجیٹل گورننس منصوبے، ملاکنڈ میں جبن درگئی عوامی پارک کے قیام اور جانی خیل ٹی ایس ڈی وزیر کے لیے مربوط ترقیاتی پیکج کی بھی منظوری دی گئی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






