بڑی خوشخبری! قومی ٹیم میں کیا بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟

اسلام آباد: فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے آئین میں جلد ترامیم کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں فٹبال درست سمت کی جانب گامزن ہے، تاہم کھیل کی مزید ترقی کے لیے گورننس نظام میں اصلاحات اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے مثبت کردار کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر محسن گیلانی اور نائب صدر نوید اسلم کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیفا کے ہیڈ آف ممبر ایسوسی ایشنز گورننس رولف ٹینر نے کہا کہ انہوں نے دو روز کے دوران پاکستان فٹبال کے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پی ایف ایف میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے گورننس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور فوری اصلاحات نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں فٹبال مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، لیکن عالمی معیار کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں مزید بہتری ضروری ہے۔

رولف ٹینر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان جلد آئین میں مطلوبہ ترامیم کرکے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اصلاحات کے ذریعے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مزید بااختیار بنایا جائے گا، جو فیفا کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایف ایف کے مالی معاملات کا جائزہ فیفا کی متعلقہ کمیٹی لے رہی ہے جبکہ فٹبال کی ترقی کے لیے تمام فریقین کو تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس موقع پر پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر محسن گیلانی نے کہا کہ پی ایف ایف کے آئین میں 2013 کے بعد کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوئی، اس لیے فیفا کی ہدایات کے مطابق اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان عالمی فٹبال کے تقاضوں کے مطابق خود کو نہ ڈھال سکا تو قومی فٹبال مزید پیچھے رہ جائے گی۔

محسن گیلانی نے کہا کہ فیفا پاکستان میں فٹبال کی بہتری کے لیے اصلاحات چاہتی ہے اور نارملائزیشن کمیٹی کے آڈٹ کا اختیار بھی فیفا کے پاس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود پی ایف ایف قومی اور بین الاقوامی سطح پر فٹبال سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستانی ٹیمیں مختلف عالمی مقابلوں میں شرکت کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیڈریشن کی توجہ ڈومیسٹک فٹبال کے فروغ پر مرکوز ہے اور جلد پاکستان فٹبال لیگ کے انعقاد کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق مجوزہ آئینی ترامیم کا مقصد کسی ایک عہدے کے اختیارات میں اضافہ نہیں بلکہ فٹبال کے تمام شعبوں اور اسٹیک ہولڈرز، بالخصوص خواتین کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔

صدر پی ایف ایف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان فٹبال کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close