حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط پر بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کو محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق نئی پالیسی کے تحت اب بجلی پر سبسڈی صرف غریب اور کم آمدن والے صارفین کو دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے وہی صارفین سبسڈی کے اہل ہوں گے جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں رجسٹرڈ ہوں گے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے صارفین کو کیو آر کوڈ اسکین کر کے رجسٹریشن کرنا ہوگی، جس کے بعد ان کا ڈیٹا نادرا سے تصدیق کے لیے حاصل کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یکم جنوری 2027 کے بعد ملک بھر میں مکمل طور پر ٹارگٹڈ سبسڈی نظام نافذ کر دیا جائے گا۔ وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ایک سے زیادہ میٹر رکھنے والے اور بڑے گھروں میں رہائش پذیر افراد کو سبسڈی نہیں دی جائے گی، کیونکہ بجلی، گیس اور آٹے کی سبسڈی صرف کم آمدن طبقے کا حق ہے۔
اس فیصلے پر شہریوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سیاسی بنیادوں پر رجسٹریشن کے خدشات موجود ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد نے نشاندہی کی ہے کہ بڑے شہروں میں چھوٹے گھروں میں متعدد خاندان مشترکہ طور پر رہتے ہیں، جس کے باعث وہ سبسڈی سے محروم ہو سکتے ہیں۔
شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سبسڈی میں کمی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکومتی شخصیات، سرکاری اداروں اور مراعات یافتہ طبقات کے یوٹیلٹی اخراجات، سرکاری گاڑیوں کے استعمال، اور دیگر مراعات کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے لائے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں ضروری ہے کہ سب سے پہلے اشرافیہ کے غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں اور تمام طبقوں کے لیے یکساں کفایت شعاری اپنائی جائے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






