حکمرانوں کے پاس کوئی صلاحیت نہیں، سابق وزیرِاعظم کا الزام

اسلام آباد: سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور موجودہ نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس ملکی مسائل حل کرنے کی صلاحیت موجود نہیں۔

انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاہے ایران اور امریکہ کے درمیان جتنے بھی مذاکرات کروا لیے جائیں، جب تک ملک کے اندرونی حالات بہتر نہیں ہوتے، پاکستان میں ایک روپیہ بھی بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سال سے ایک ہی غلطی بار بار دہرائی جا رہی ہے جبکہ ملک میں بااثر طبقات ٹیکس کے دائرے میں آنے سے گریزاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے پارلیمنٹیرینز کی مراعات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ارکانِ پارلیمنٹ نے اپنی تنخواہیں 500 فیصد سے زائد جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے 850 فیصد تک بڑھا لیں، جبکہ عوام پر بھاری ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔

سابق وزیرِاعظم نے کہا کہ جب تک جی ڈی پی بڑھانے کے لیے بنیادی معاشی اصلاحات نہیں کی جاتیں، بجٹ کے اقدامات بے فائدہ رہیں گے۔ انہوں نے پولیس پروٹوکول اور حکومتی اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئینی ترامیم رات کے اندھیرے میں کی گئیں تو اس سے ملک کو نقصان ہوگا، اور ترامیم کا مقصد نظام کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close