پاکستان، چین اور ایران سے متعلق اہم اشارے، بڑی باتیں سامنے آگئیں

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جو دونوں ممالک کو معاشی اور تزویراتی طور پر مزید قریب لا رہا ہے۔

وزارت قانون کے تحت منعقدہ چار روزہ بین الاقوامی تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعت کاری، زرعی ترقی اور دیگر اقتصادی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور بھائی چارے پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں میں پاک چین شراکت داری ہر آزمائش پر پورا اتری ہے اور دونوں ممالک کی قیادت نے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان 47 برس بعد ثالثی کے ذریعے مذاکرات میں کردار ادا کیا اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور تنازعات کے پائیدار حل کیلئے اپنی سفارتی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

نائب وزیراعظم نے بعض ممالک کی جانب سے معاہدوں کو التوا میں رکھنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں کا احترام اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد عالمی امن کیلئے ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں جبکہ بنگلادیش کے ساتھ بھی تعلقات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close