کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنیوالوں کیلئے خوشخبری

حکومت نے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ٹیکس میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

نئے بجٹ کے مطابق ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بیرونِ ملک کی جانے والی ادائیگیوں پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد مقرر کر دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ حکومت نے غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستانی شہریوں کو اپنے غیر ملکی مالی اثاثے ریکارڈ پر لانے کی ترغیب دینا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا سالانہ ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے جبکہ مجموعی ریونیو کا تخمینہ 20 ہزار 600 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 336 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔

دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے جبکہ وفاقی حکومت کی خالص آمدن 11 ہزار 751 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔ اندرونی ذرائع سے 2 ہزار 34 ارب اور بیرونی ذرائع سے 813 ارب روپے قرض حاصل کیے جائیں گے۔ حکومت ٹی بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور سکوک کے ذریعے 4 ہزار 12 ارب روپے حاصل کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔

نجکاری کے ذریعے 161 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جاری اخراجات کا تخمینہ 17 ہزار 495 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے، پنشن کے لیے 1 ہزار 169 ارب روپے اور سول حکومت کے اخراجات کے لیے 1 ہزار 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہنگامی اقدامات کے لیے 430 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close