قومی اسمبلی کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار خیال کی اجازت نہ ملنے پر ارکان نے ایوان میں احتجاج کیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس کے آغاز میں ڈومیل بنوں میں دہشت گردی کے واقعے میں جاں بحق افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما جنید اکبر نے پوائنٹ آف آرڈر پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر مسلط نااہل حکومت نے رات کی تاریکی میں ایسا اقدام کیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جنید اکبر ابھی اظہار خیال کر رہے تھے اور دیگر ارکان بھی اس معاملے پر گفتگو کرنا چاہتے تھے کہ ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس کو پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرنے کی اجازت نہ دیے جانے پر اپوزیشن ارکان نے ایوان کے اندر ہی احتجاج کیا اور اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔
اپوزیشن ارکان، جو پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کے خلاف حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






