آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کل سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کے اعلان کے بعد پیٹرول کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے ردعمل میں آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں تیل کی سپلائی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت کل سے ہڑتال شروع کی جائے گی۔
ایسوسی ایشن کے صدر عبداللہ آفریدی نے تمام ٹینکر مالکان کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کل سے کسی بھی آئل ٹینکر کو لوڈ نہ کریں۔
عبداللہ آفریدی نے کہا کہ موجودہ کرایوں کے ساتھ کام جاری رکھنا ممکن نہیں رہا کیونکہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹرز کو شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی مثبت پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔ ان کے مطابق حکومتی نمائندے علی پرویز سے متعدد بار رابطہ کیا گیا اور خطوط بھی ارسال کیے گئے، لیکن مذاکرات کی درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
صدر ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ نقصان برداشت کرنے کے بجائے گاڑیاں کھڑی رکھنا بہتر ہے اور جب تک کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا، ٹینکرز نہیں چلائے جائیں گے۔
اس ہڑتال کے باعث خیبر پختونخوا، پنجاب اور دیگر علاقوں میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور متعلقہ حکام کے رویے کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






